الادب المفرد
كتاب أهل الكتاب— كتاب أهل الكتاب
بَابُ يُضْطَرُّ أَهْلُ الْكِتَابِ فِي الطَّرِيقِ إِلَى أَضْيَقِهَا باب: اہلِ کتاب کو بہت تنگ راستے کی طرف مجبور کیا جائے
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي الطَّرِيقِ، فَلاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مشرکوں سے راستے میں ملو تو انہیں سلام میں پہل نہ کرو، اور انہیں تنگ تر راستے کی طرف مجبور کر دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ ان کی تکریم کی خاطر راستہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ان کے کافر ہونے کا احساس دلانا ضروری ہے۔ نیز یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ شاذ ہے اور محفوظ وہ الفاظ ہیں جو رقم ۱۱۰۳ میں گزرے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان کی تکریم کی خاطر راستہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ان کے کافر ہونے کا احساس دلانا ضروری ہے۔ نیز یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ شاذ ہے اور محفوظ وہ الفاظ ہیں جو رقم ۱۱۰۳ میں گزرے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1111 سے ماخوذ ہے۔