الادب المفرد
كتاب أهل الكتاب— كتاب أهل الكتاب
بَابُ: كَيْفَ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ؟ باب: ذمیوں کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہودیوں میں سے کوئی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام علیک» (تمہیں موت آئے)، تم بھی جواب میں «وعلیک» (تجھے موت پڑے) کہا کرو۔“