حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَهْلُ الْكِتَابِ لاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ کتاب کو سلام میں (کسی صورت بھی) پہل نہ کرو، اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب أهل الكتاب / حدیث: 1103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب السلام : 2167 و أبوداؤد : 5205 و الترمذي : 1602»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کافر مسلمان ملک میں رہتا ہو یا کسی کافر ملک میں، اسے سلام میں پہل کرنا ناجائز ہے کیونکہ وہ لائق تکریم و رحمت نہیں۔ اسی طرح اگر کافر راستے میں ملے تو اسے راستہ دینا کہ وہ آسانی سے گزر جائے درست نہیں بلکہ خود ’’چوڑے‘‘ ہو کر چلنا چاہیے تاکہ وہ تنگ راستے کی طرف مجبور ہو جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1103 سے ماخوذ ہے۔