حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ‏:‏ كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى رُهْبَانٍ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ، فَقِيلَ لَهُ‏:‏ أَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ كَافِرٌ‏؟‏ قَالَ‏:‏ إِنَّهُ كَتَبَ إِلَيَّ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک غیر مسلم چوہدری (یا راہب) کو خط لکھا تو اسے سلام بھی لکھا۔ ان سے کہا گیا: آپ اس کو سلام کرتے ہیں حالانکہ وہ کافر ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اپنے خط میں سلام لکھا تھا؟ میں نے اس کا جواب دیا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب أهل الكتاب / حدیث: 1101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسدد فى مسنده كما فى المطالب العالية : 2653 و اتحاف الخيرة المهرة : 5292 - أنظر الصحيحة : 704»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جس طرح کافر کو زبان سے سلام میں پہل کرنا جائز نہیں اسی طرح خط میں بھی سلام میں پہل کرنا جائز نہیں، البتہ جواباً سلام کہنے کی طرح لکھنا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 1101 سے ماخوذ ہے۔