حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے جس کا دروازہ تمہارے (دروازے کے) زیادہ قریب ہو (اسے پہلے بھیجو)۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الجار / حدیث: 108
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الشفعة ، باب أى الجوار أقرب : 2259 ، 6020»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کے فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث:۱۰۷۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 108 سے ماخوذ ہے۔