حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثُهُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جبریل مجھے ہمسایوں کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خیال گزرا کہ وہ انہیں ضرور وارث قرار دے دیں گے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الجار / حدیث: 106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : انظر الحديث : 101»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس حدیث کے فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث:۱۰۱۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 106 سے ماخوذ ہے۔