کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 5218
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , " أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ , أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَبِّلُ حُسَيْنًا , فَقَالَ : إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا فَعَلْتُ هَذَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین ( حسین بن علی رضی اللہ عنہما ) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے : میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا “ ( پیار و شفقت رحم ہی تو ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5997) صحيح مسلم (2118)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الفضائل 15 (2318)، سنن الترمذی/البر والصلة 12 (1911)، (تحفة الأشراف: 15146)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (2/228، 241، 269، 513) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ : أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ : ثُمَّ قَالَ : تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ , وَقَرَأَ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ , فَقَالَ أَبَوَايَ : قُومِي , فَقَبِّلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : أَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِيَّاكُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے “ اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں ، تو اس وقت میرے والدین نے کہا : اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو ، میں نے کہا : میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں ( کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں ) نہ کہ آپ دونوں کا ( کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وھذا طرف من حديث الإفك رواه البخاري (2661، 4750) ومسلم (2770)
تخریج حدیث « تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16879)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة النور 6 (4750)، صحیح مسلم/التوبة 10 (2770)، مسند احمد (6/59) (صحیح) »