کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جمائی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5026
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے ، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2995)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزہد 9 (2995)، (تحفة الأشراف: 4119)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 37، 93، 96)، سنن الدارمی/الصلاة 106 (1422) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5027
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ نَحْوَهُ ، قَالَ : فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے` اس میں یہ ہے ” ( جب جمائی ) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2995),
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4119) (صحیح) »
حدیث نمبر: 5028
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ ، وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ ، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند ، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے ، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے ، اور ہاہ ہاہ نہ کہے ، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، وہ اس پر ہنستا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 5028
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6226)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، الأدب 125 (6223)، 126 (6262)، سنن الترمذی/الصلاة 6 15 (370)، الأدب 7 (2747)، (تحفة الأشراف: 14322)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والرقاق 9 (2995)، مسند احمد (2 /265، 428، 517) (صحیح) »