حدیث نمبر: 5017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، يَقُولُ : هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے ( سلام پھیر کر ) پلٹتے تو پوچھتے : ” کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اور فرماتے : میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میری موت کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور مستقبل کی جو باتیں وحی سے معلوم ہوتی تھیں اب صرف سچے خواب ہی کے ذریعہ جانی جا سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 5018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی کامل مدت کل تیئس سال ہے اس میں سے شروع کے چھ مہینے جو مکہ کا ابتدائی دور ہے اس میں آپ کے پاس وحی (بحالت خواب نازل ہوتی تھی اور یہ مدت کل نبوی مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے گویا سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5019
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ ، وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ : فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ ، قَالَ : وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " , قال أبو داود : إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ : يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ : يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زمانہ قریب ہو جائے گا ، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا ، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا ، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا ، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں : بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں ، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے ، فرمایا : میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ” جب زمانہ قریب ہو جائے گا “ کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس میں قرض دار رہنے یا کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے ، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے “ ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ” اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 5021
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُهَيْرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ لِيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے ، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے ، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ , وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا ، وَيَتَحَوَّلُ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے ، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا “ ۔
حدیث نمبر: 5023
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا ، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا ، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا ۔
حدیث نمبر: 5024
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی تصویر بنائے گا ، اس کی وجہ سے اسے ( اللہ ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے ، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا ، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں ، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: اور وہ یہ نہیں کر سکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔
حدیث نمبر: 5025
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں ، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ ( کھجوریں ) لائی گئیں ، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا “ ۔
وضاحت:
۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔