کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وعدہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4995
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا ، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف/ ت, ترمذي (2633), وقال الترمذي :’’ ليس إسناده بالقوي …… وأبو نعمان مجهول و أبو وقاص مجهول ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الإیمان 14 (2633)، (تحفة الأشراف: 3693) (ضعیف) » (سند میں ابووقاص مجہول راوی ہیں)
حدیث نمبر: 4996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ ، قَالَ : " بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ ، وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ ، فَنَسِيتُ ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ ، فَقَالَ : يَا فَتًى ، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ " , قال أبو داود : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : هَذَا عِنْدَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ أبو داود : هَكَذَا بَلَغَنِي ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ أبو داود : بَلَغَنِي أَنَّ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ رَوَاهُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا ، پھر میں بھول گیا ، پھر مجھے تین ( دن ) کے بعد یاد آیا تو میں آیا ، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اے جوان ! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا ، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4996
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبدالكريم بن عبد اللّٰه بن شقيق مجهول (تق: 4152), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5245) (ضعیف الإسناد) »