حدیث نمبر: 4993
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ ، قال أبو داود : وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرٍ ، قَالَ نَصْرٌ : ابْنِ نَهَّارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ نَصْرٌ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " , قال أبو داود : مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4994
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا ، فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ ، فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي , وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ , قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قال : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا أَوْ قَالَ : شَرًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے ، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی ، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں ، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے ، آپ نے فرمایا : ” تم دونوں ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ہیں “ ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ ، اللہ کے رسول ! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا : ” شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے ، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے ، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے ، یا یوں کہا : کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میری نسبت سے ان دونوں کے دل میں کوئی بات ایسی پیدا ہو گئی جو ان کے کفر و ارتداد کا سبب بن گئی تو یہ دونوں تباہ و برباد ہو جائیں گے، اس لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ نے ظن و شک والے امر کی وضاحت کر دی تاکہ یہ دونوں صحیح و سلامت رہیں کیونکہ آپ کو اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں تھا۔