کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جھوٹ بولنے کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4989
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جھوٹ سے بچو ، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے ، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے ، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے ، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6094) صحيح مسلم (2607)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البروالصلة 29 (2607)، القدر 1 (2643)، سنن الترمذی/البر 46 (1971)، (تحفة الأشراف:9261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 69 (6094)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (46)، موطا امام مالک/الکلام 7 (16)، مسند احمد 1(384، 405)، سنن الدارمی/الرقاق 7 (2757) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4990
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے ، تباہی ہے اس کے لیے ، تباہی ہے اس کے لیے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4990
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4834), أخرجه الترمذي (2315 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الزہد 10 (2315)، (تحفة الأشراف: 11381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/2، 5، 7)، سنن الدارمی/الاستئذان 66 (2744) (حسن) »
حدیث نمبر: 4991
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مَوَالِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا ، فَقَالَتْ : هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ , قَالَتْ : أُعْطِيهِ تَمْرًا , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے ، وہ بولیں : سنو یہاں آؤ ، میں تمہیں کچھ دوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ وہ بولیں ، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : سنو ، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتی ، تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جب ماں کے لئے بچہ کو اپنی کسی ضرورت کے لئے جھوٹ بول کر پکارنا صحیح نہیں تو بھلا کسی بڑے کے ساتھ جھوٹی بات کیونکر کی جاسکتی ہے، گویا ازراہ ہنسی ہی کیوں نہ ہو وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مولي عبد اللّٰه مجهول, وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (452/2) وابن وھب في الجامع (80), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/447) (حسن) »
حدیث نمبر: 4992
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ ابْنُ حُسَيْنٍ فِي حَدِيثِهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ " , قال أبو داود : وَلَمْ يَذْكُرْ حَفْصٌ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ أبو داود : وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَّا هَذَا الشَّيْخُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ حَفْصٍ الْمَدَائِنِيَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بلا تحقیق ) بیان کرے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ، ابوداؤد کہتے ہیں : اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (156), أخرجه مسلم (5، باب: النھي عن الحديث بكل ما سمع) من حديث علي بن حفص به وتفرد به كما قال أبو داود وغيره، وجاء في بعض نسخ صحيح مسلم وھم من النساخ، رد به بعض العلماء علي أبي داود رحمه اللّٰه والرد مردود أصلًا، أنظر النسخ الھندية من صحيح مسلم لتحقيق الصواب
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المقدمة 3 (5)، (تحفة الأشراف: 12268، 18580) (صحیح) »