حدیث نمبر: 4984
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ ، وَلَكِنَّهُمْ يَعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پر «أعراب» ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں ، سنو ! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے اپنے قول «ومن بعد صلاة العشاء» میں عشاء سے تعبیر کیا ہے اس لئے اس کا ترک مناسب نہیں۔
۲؎: اور اس نماز کو مؤخر کرتے ہیں اسی وجہ سے اسے «صلاة العتمة» کہتے ہیں۔
۲؎: اور اس نماز کو مؤخر کرتے ہیں اسی وجہ سے اسے «صلاة العتمة» کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ : " لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَا بِلَالُ ، أَقِمْ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے کہا : کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا ، مسعر کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا ، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ “ ۔
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ نَعُودُهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ : يَا جَارِيَةُ ، ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ , قال : فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " قُمْ يَا بِلَالُ ، فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں` میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی ( عیادت ) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے ، تو نماز کا وقت ہو گیا ، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا : اے لڑکی ! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ “ ۔
حدیث نمبر: 4987
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسِبُ أَحَدًا إِلَّا إِلَى الدِّينِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: امام منذری کہتے ہیں کہ شاید ابوداود نے اس باب میں اس حدیث کو اس لیے داخل کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو صرف دین کی طرف منسوب کرتے تھے، تا کہ اس حدیث کے ذریعہ سے لوگوں کو اس بات کی طرف رہنمائی کریں کہ کتاب وسنت میں وارد الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے، اور لوگوں کو جاہلی الفاظ و عبارات کے استعمال سے روکیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ «عتمہ» کی جگہ «عشاء» کا استعمال کیا اور یہ حدیث منقطع ہے، زید بن اسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا ہے۔(عون المعبود ۱۳/۲۲۷)