کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4952
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ ، وَقَالَ : أَنْتِ جَمِيلَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎ ، اور فرمایا : تو جمیلہ ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگار و نافرمان کے ہیں۔
۲؎:یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4952
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2139)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الآداب 3 (2139)، سنن الترمذی/الأدب 66 (2838)، (تحفة الأشراف: 8155، 7876)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب 32 (3733)، مسند احمد (2/18)، سنن الدارمی/الاستئذان 62 (2739) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4953
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ : سَمَّيْتُهَا مُرَّةَ , فَقَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ , سُمِّيتُ بَرَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ , فَقَالَ : مَا نُسَمِّيهَا ؟ قَالَ : سَمُّوهَا زَيْنَبَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ` زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا : تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے ؟ کہا : میں نے اس کا نام ” برہ “ رکھا ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے ، میرا نام پہلے ” برہ “ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خود سے پاکباز نہ بنو ، اللہ خوب جانتا ہے ، تم میں پاکباز کون ہے ، پھر ( میرے گھر والوں میں سے ) کسی نے پوچھا : تو ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : ” زینب “ رکھ دو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4953
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (821) وتابعه الوليد بن كثير عند مسلم (2142),
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأداب 3 (2142)، (تحفة الأشراف: 15884) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 4954
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ : " أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا اسْمُكَ , قال : أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ : بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک آدمی جسے ” اصرم “ ( بہت زیادہ کاٹنے والا ) کہا جاتا تھا ، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں ” اصرم “ ہوں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں تم ” اصرم “ نہیں بلکہ ” زرعہ “ ( کھیتی لگانے والے ) ہو ، ( یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4954
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4775)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 83) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4955
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ ، " أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يَكْنُونَهُ بابي الْحَكَمِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ ، فَلِمَ تُكْنَىبابا الْحَكَمِ , فَقَالَ : إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَحْسَنَ هَذَا ، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ ؟ , قَالَ : لِي شُرَيْحٌ ، وَمُسْلِمٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ , قَالَ : فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ؟ قُلْتُ : شُرَيْحٌ , قَالَ : فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ " , قَالَ أبو داود : شُرَيْحٌ هَذَا : هُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ ، وَهُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ ، قَالَ أبو داود : وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ باب تُسْتَرَ ، وَذَلِك أَنْهُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے ، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے ، آپ نے انہیں بلایا ، اور فرمایا : ” حکم تو اللہ ہے ، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” یہ تو اچھی بات ہے ، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا : شریح ، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں “ آپ نے پوچھا : ان میں بڑا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : ” شریح “ آپ نے فرمایا : تو تم ” ابوشریح ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4766), أخرجه النسائي (5389 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/آداب القضاة 7 (5389)، (تحفة الأشراف: 11725) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4956
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " مَا اسْمُكَ , قَالَ : حَزْنٌ , قَالَ : أَنْتَ سَهْلٌ , قَالَ : لَا ، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ " , قَالَ سَعِيدٌ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ ، قَالَ أبو داود : وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ ، وَعَزِيزٍ ، وَعَتَلَةَ ، وَشَيْطَانٍ ، وَالْحَكَمِ ، وَغُرَابٍ ، وَحُباب ، وَشِهَابٍ ، فَسَمَّاهُ : هِشَامًا ، وَسَمَّى حَرْبًا : سَلْمًا ، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ : الْمُنْبَعِثَ ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا : خَضِرَةَ ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ : شَعْبَ الْهُدَى ، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ : بَنِي الرِّشْدَةِ ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ : بَنِي رِشْدَةَ , قَالَ أبو داود : تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کے دادا ( حزن رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن ۱؎ آپ نے فرمایا : ” تم سہل ہو ، انہوں نے کہا : نہیں ، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے ، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی ( اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص ( گنہگار ) عزیز ( اللہ کا نام ہے ) ، عتلہ ( سختی ) شیطان ، حکم ( اللہ کی صفت ہے ) ، غراب ( کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں ) ، حباب ( شیطان کا نام ) اور شہاب ( شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے ) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا ، اور حرب ( جنگ ) کے بدلے سلم ( امن ) رکھا ، مضطجع ( لیٹنے والا ) کے بدلے منبعث ( اٹھنے والا ) رکھا ، اور جس زمین کا نام عفرۃ ( بنجر اور غیر آباد ) تھا ، اس کا خضرہ ( سرسبز و شاداب ) رکھا ، شعب الضلالۃ ( گمراہی کی گھاٹی ) کا نام شعب الہدی ( ہدایت کی گھاٹی ) رکھا ، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: حزن کے معنی سخت اور دشوار گزار زمین کے ہیں اور سہل کے معنی: نرم اور عمدہ زمین کے ہیں حزن کی ضد۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6190), مشكوة المصابيح (4776)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأداب 107 (6190)، 108 (6193)، (تحفة الأشراف: 3400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/433) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4957
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : " لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ , قُلْتُ : مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ , فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :الْأَجْدُعُ شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسروق کہتے ہیں کہ` میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع ، تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اجدع تو شیطان ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3731), مجالد ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3731)، (تحفة الأشراف: 10641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/31) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4958
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا ، وَلَا رَبَاحًا ، وَلَا نَجِيحًا ، وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ : أَثَمَّ هُوَ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا ، إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار ، رباح ، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو ، اس لیے کہ تم پوچھو گے : کیا وہاں ہے وہ ؟ تو جواب دینے والا کہے گا : نہیں ( تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے ) ( سمرہ نے کہا ) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2137)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأداب 2 (2136)، سنن الترمذی/الأدب 65 (2836)، سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3730)، (تحفة الأشراف: 4612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/7، 10، 12، 21)، سنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4959
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ : أَفْلَحَ ، وَيَسَارًا ، وَنَافِعًا ، وَرَبَاحًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم افلح ، یسار ، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں ۔  
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2136)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4612) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4960
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا ، وَأَفْلَحَ ، وَبَرَكَةَ " , قَالَ الْأَعْمَشُ : وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ : إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةُ ؟ , فَيَقُولُونَ : لَا , قَالَ أبو داود : رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع ، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا ، ( اعمش کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا : کیا برکت ہے ؟ تو لوگ کہیں گے : نہیں ، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں ” برکت “ کا ذکر نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (833) ورواه مسلم (2138)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2330)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4961
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَخْنَعُ : اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ " , قَالَ أبو داود : رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : أَخْنَى اسْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے ، اسی سند سے روایت کیا ہے ، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے ، ( جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6206) صحيح مسلم (2143)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأدب 114 (6206)، صحیح مسلم/الأداب 4 (2143)، سنن الترمذی/الأدب 65 (2837)، (تحفة الأشراف: 13672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/244) (صحیح) »