کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نام بدل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4948
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ " , قَالَ أبو داود : ابْنُ أَبِى زَكَرِيَّا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے ، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اگر کسی کا نام اچھا نہ ہو تو وہ بدل کر اپنا اچھا نام رکھ لے، اور سب سے بہتر نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبداﷲ بن أبي زكريا : لم يدرك أبا الدرداء،كما قال أبو داود رحمه اللّٰه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/194)، سنن الدارمی/الاستئذان 59 (2736) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4949
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى : عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4949
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2132)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الأداب 1 (2132)، (تحفة الأشراف: 7920)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 64 (2836)، سنن الدارمی/الاستئذان 60 (2737) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4950
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ : عَبْدُ اللَّهِ ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَصْدَقُهَا : حَارِثٌ ، وَهَمَّامٌ ، وَأَقْبَحُهَا : حَرْبٌ ، وَمُرَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے ، کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء کے نام رکھا کرو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام ” عبداللہ “ اور ” عبدالرحمٰن “ ہیں ، اور سب سے سچے نام ” حارث “ و ” ہمام “ ہیں ۱؎ ، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام ” حرب “ و ” مرہ “ ہیں ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چنانچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد وارادہ سے خالی ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔
۲؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4950
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله تسموا بأسماء الأنبياء , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (3595), ولبعض الحديث شواهد صحيحة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج حدیث « سنن النسائی/الخیل 2 (3595)، (تحفة الأشراف: 15521)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345) (صحیح)(اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کاٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة 1040،904، والارواء 1178 وتراجع الالبانی 46) »
حدیث نمبر: 4951
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ , قُلْتُ : نَعَمْ , قَالَ : فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے ، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے ، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس کھجور ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں ، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے “ اور آپ نے اس لڑکے کا نام ” عبداللہ “ رکھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2144)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الآداب 5 (2144)، انظر حدیث رقم : (2563)، (تحفة الأشراف: 325)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/175، 212، 287، 288) (صحیح) »