کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نصیحت و خیر خواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4944
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ , قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ ، أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے ، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے ، یقیناً ، دین خیر خواہی کا نام ہے “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کن کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے ، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اللہ کے لئے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کے لئے ہو، کتاب اللہ کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے، رسول کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ رسول کی نبوت کی تصدیق کرنے کے ساتھ وہ جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، مسلمانوں کے حاکموں کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور حقیقی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے، اور عام مسلمانوں کے لئے خیرخواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4944
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (55)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإیمان 23 (55)، سنن النسائی/البیعة 31 (4202)، (تحفة الأشراف: 2053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/102، 103) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4945
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا بَاعَ الشَّيْءَ أَوِ اشْتَرَاهُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّ الَّذِي أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ فَاخْتَرْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت پر بیعت کی ، اور یہ کہ میں ہر مسلمان کا خیرخواہ ہوں گا ، راوی کہتے ہیں : وہ ( یعنی جریر ) جب کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرما دیتے : ہم جو چیز تم سے لے رہے ہیں ، وہ ہمیں زیادہ محبوب و پسند ہے اس چیز کے مقابلے میں جو ہم تمہیں دے رہے ہیں ، اب تم چاہو بیچو یا نہ بیچو ، خریدو یا نہ خریدو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يونس بن عبيد مدلس, والحديث السابق (الأصل : 4944) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
تخریج حدیث « سنن النسائی/ البیعة 6 (4162)، (تحفة الأشراف: 3239)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 42(57)، مواقیت الصلاة 3 (524)، الزکاة 2 (1401)، البیوع 68 (2157)، الشروط 1 (2705)، الأحکام 43 (7204)، صحیح مسلم/الإیمان 43 (56)، سنن الترمذی/البر 17 (1925)، مسند احمد (4/ 358، 361، 364، 365) (صحیح الإسناد) »