کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: گڑیوں سے کھیلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4931
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فَرُبَّمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي الْجَوَارِي ، فَإِذَا دَخَلَ خَرَجْنَ وَإِذَا خَرَجَ دَخَلْنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی ، کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے ، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں ، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آ جاتیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4931
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6130) صحيح مسلم (2440)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16873)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 81 (6130)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2440)، سنن ابن ماجہ/النکاح 50 (1982) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ ، فَقَالَ : مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟ قَالَتْ : بَنَاتِي وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ , فَقَالَ : مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ ؟ قَالَتْ : فَرَسٌ ، قَالَ : وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ : جَنَاحَانِ ، قَالَ : فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ ؟ قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ ؟ قَالَتْ : فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے ، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا ، اچانک ہوا چلی ، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں ، آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ “ میں نے کہا : میری گڑیاں ہیں ، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے ، پوچھا : یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں ؟ وہ بولیں : گھوڑا ، آپ نے فرمایا : ” اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے ؟ “ وہ بولیں : دو بازو ، آپ نے فرمایا : ” گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں ؟ وہ بولیں : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے ، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3265)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17742) (صحیح) »