حدیث نمبر: 4924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا ، قَالَ : فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَقَالَ لِي : يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا " , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُئِيُّ : سَمِعْت أَبَا دَاوُد ، يَقُولُ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا : اے نافع ! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا : نہیں ، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں ، اور فرمایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں : میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا : یہ حدیث منکر ہے ۔
حدیث نمبر: 4925
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قال أَبُو دَاوُد : أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا ، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 4926
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، عَنْ مَيْمُونٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ زَامِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قال أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَنْكَرُهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: صاحب ” عون المعبود“ لکھتے ہیں: «ولا یعلم وجہ النکارۃ بل إسنادہ قوی ولیس بمخالف لروایۃ الثقات» یعنی ابوداود نے اسے «أنکر الروایۃ» کیوں کہا اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی بلکہ سنداً یہ قوی روایت ہے اور ثقات کی روایت کے بھی مخالف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4927
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ شَيْخٍ شَهِدَ أَبَا وَائِلٍ فِي وَلِيمَةٍ فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ يَتَلَعَّبُونَ يُغَنُّونَ ، فَحَلَّ أَبُو وَائِلٍ حَبْوَتَهُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں` جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے ، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے : میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پاؤں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔