کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لعنت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4905
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نِمْرَانَ يَذْكُرُ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ، ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا " , قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ : هُوَ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ سَمِعَ مِنْهُ وَذَكَرَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ وَهِمَ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے ، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے ، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے ، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے ، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی ، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4905
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نمران بن عتبة الذماري : مجهول (التحرير : 7188), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11000) (حسن) »
حدیث نمبر: 4906
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِالنَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یوں نہ کہو: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو، یااللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یا وصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہا ہو مثلاً یوں کہے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على اليهود» ، یا کسی ایسے متعین کافر پر لعنت بھیج رہا ہو جس کا کفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تو یہ جائز ہے جیسے «لعنة الله على الكافرين» ، یا «لعنة الله على أبي جهل» کہنا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1976), قتادة عنعن, ولحديثه شاهد مرسل عند عبد الرزاق (المصنف : 19531), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1976)، (تحفة الأشراف: 4594)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/15) (حسن) »
حدیث نمبر: 4907
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ , وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فرد نہیں ہو سکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2598)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البروالصلة 24 (2598)، (تحفة الأشراف: 10980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/448) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4908
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ . ح حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ زَيْدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ ، وَقَالَ مُسْلِمٌ : إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی ( مسلم کی روایت میں اس طرح ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی ، تو اس نے اس پر لعنت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر لعنت نہ کرو ، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے ، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1978), قتادة مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1978)، (تحفة الأشراف: 5426، 18641) (صحیح) »