حدیث نمبر: 4901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَآخِيَيْنِ ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ ، فَيَقُولُ : أَقْصِرْ ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَقْصِرْ ، فَقَالَ : خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا ، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ : أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا ، وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي ، وَقَالَ لِلْآخَرِ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ " , قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے ، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا “ اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا ، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا : باز رہ ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا : باز رہ اس نے کہا : قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے ( اپنا کام کرو ) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا ، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے ، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا : تو مجھے جانتا تھا ، یا تو اس پر قادر تھا ، جو میرے دست قدرت میں ہے ؟ اور گنہگار سے کہا : جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا ، اور دوسرے کے متعلق کہا : اسے جہنم میں لے جاؤ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی ۔
حدیث نمبر: 4902
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے ، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: «بغی» سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبر و غرور ہے۔