کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اس شخص کا ذکر جس نے غیبت کرنے والے کو معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 4886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَيْغَمٍ أَوْ ضَمْضَمٍ شَكَّ ابْنُ عُبَيْدٍ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى عِبَادِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قتادہ کہتے ہیں` کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے ، وہ جب صبح کرتے تو کہتے : اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کر دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة مدلس ولم يصرح بالسماع, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 467) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4887
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ , قَالُوا : وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ ، قَالَ : رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِمَعْنَاهُ , قَالَ : عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي " , قَالَ أَبُو دَاوُد :رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو “ لوگوں نے عرض کیا : ابوضمضم کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا “ پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك» ) کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني» ) ( میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے ) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے ، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں ، ثابت کہتے ہیں : ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مرسل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن عجلان : أرسل حديثًا وھو مجهول الحال (تق: 3945), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 467، 19215) (ضعیف) » (اس کے ضعیف ہونے کی وجہ ارسال ہے، تابعی یعنی ابن عجلان نے واسطہ ذکر نہیں کیا، اور وہ خود مجہول الحال ہیں)