کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اللہ (کا ذکر) کو یاد کئے بغیر مجلس سے اٹھ کر جانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4855
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے ، اور وہ مجلس ان کے لیے ( قیامت کے روز ) باعث حسرت ہو گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2273)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/515، 527) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4856
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ تِرَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے ، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2272), رواه الحميدي بتحقيقي (1158 وسنده حسن) ابن عجلان تابعه عبد الرحمن بن إسحاق المدني عند الحاكم (1/492)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13043)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 8 (3380)، مسند احمد (2/432، 452، 481، 484) (حسن صحیح) »