کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دوبارہ مجلس میں آنے والا آدمی اپنی جگہ کا زیادہ مستحق ہے۔
حدیث نمبر: 4853
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَالِسًا وَعِنْدَهُ غُلَامٌ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَحَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ` میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ان کے پاس ایک لڑکا تھا ، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا ، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس ( اس جگہ بیٹھنے ) کا زیادہ مستحق ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2179)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12627)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 12 (2179)، سنن ابن ماجہ/الأدب 22 (3717)، مسند احمد (2/342، 527)، سنن الدارمی/الاستئذان 25 (2696) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4854
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ ، عَنْ كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ،فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب الایادی کہتے ہیں کہ` میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ ( کسی کام سے جانے کے لیے ) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی ، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, تمام بن نجيح : ضعيف،وكعب بن ذھل : فيه لين (تق: 798،5639), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 169
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10960) (ضعیف) »