کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ہر آدمی کو اس کے مقام و مرتبہ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4842
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيل , وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ الْيَمَانِ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ مَرَّ بِهَا سَائِلٌ فَأَعْطَتْهُ كِسْرَةً ، وَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَهَيْئَةٌ فَأَقْعَدَتْهُ فَأَكَلَ ، فَقِيلَ لَهَا فِي ذَلِكَ ، فقَالَت قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ " , قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ يَحْيَى مُخْتَصَرٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : مَيْمُونٌ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا ، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور ( اسے کھانا پیش کیا ) اور اس نے کھایا ، لوگوں نے ان سے اس ( امتیاز ) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ کی حدیث مختصر ہے ، اور میمون نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جیسا کہ ان کے منصب کے شایان شان ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حبيب و تلميذه سفيان الثوري مدلسان وعنعنا, والسند منقطع, وأشار مسلم في مقدمة صحيحه إلي ضعفه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17669) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4843
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ ،عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللَّهِ إِكْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَالْجَافِي عَنْهُ وَإِكْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو ، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے ۔
وضاحت:
۱؎: غلو کرنے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے، اس کے متشابہات کے معانیٰ میں کھوج کرنے نیز اس کی قرات اور اس کے حروف کو مخارج سے ادائیگی میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو كنانة مجهول (تق : 8327), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9150) (حسن) »