کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جھگڑے اور فساد کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4835
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ ، قَالَ : بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے ، خوشخبری دینا ، نفرت مت دلانا ، آسانی اور نرمی کرنا ، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4835
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1732)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الجھاد 3 (1732)، (تحفة الأشراف: 9069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/399، 407) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4836
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ ، عَنْ السَّائِبِ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ وَيَذْكُرُونِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ يَعْنِي بِهِ , قُلْتُ : صَدَقْتَ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كُنْتَ شَرِيكِي فَنِعْمَ الشَّرِيكُ كُنْتَ لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں “ میں نے عرض کیا : سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں ، آپ میرے شریک تھے ، تو آپ ایک بہترین شریک تھے ، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2287), مجاهد سمعه من قائد السائب،والقائد لم أجدله ترجمة و في سند الحديث اضطراب, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/التجارات 63 (2287)، (تحفة الأشراف: 3791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/425) (صحیح) »