حدیث نمبر: 4821
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الشَّمْسِ ، وَقَالَ مَخْلَدٌ : فِي الْفَيْءِ ، فَقَلَصَ عَنْهُ الظِّلُّ وَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظِّلِّ ، فَلْيَقُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو ( مخلد کی روایت ) سایہ میں ہو ، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس سے ضرر کا اندیشہ ہے، جیسے بیک وقت گرم و سرد چیز کا استعمال مضر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4822
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَامَ فِي الشَّمْسِ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے ، اس کے بعد ( آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا ) تو وہ سائے میں آ گئے ۔