حدیث نمبر: 4811
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا “ ۔
وضاحت:
۱؎: جس کی عادت و طبیعت میں بندوں کی ناشکری ہو وہ اللہ کے احسانات کی بھی ناشکری کرتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے بندوں کا شکر قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
حدیث نمبر: 4812
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَتْ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ ، قَالَ : لَا ، مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مہاجرین نے کہا : اللہ کے رسول ! سارا اجر تو انصار لے گئے ، آپ نے فرمایا : ” نہیں ( ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اجر سے محروم رہو ) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے “ ۔
حدیث نمبر: 4813
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " , قال أَبُو دَاوُد : رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ شُرَحْبِيلُ ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي ، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی ( دینے کے لیے کچھ ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے ، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے ، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا ، اور جس نے چھپایا ( احسان کو ) تو اس نے اس کی ناشکری کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے ، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں ، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے ، اس لیے ان کا نام نہیں لیا ۔
حدیث نمبر: 4814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: حدیث میں «أبلى بلائً» جو «من أعطى عطائًا» کے معنیٰ میں ہے «بلاء» کا لفظ خیر اور شر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔