حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ رفیق ہے ، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے ، اور اس پر وہ دیتا ہے ، جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے، اس کا معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ لطف و مہربانی کا ہوتا ہے، وہ ان پر آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں اور انہیں ایسی چیزوں کا مکلف نہیں بناتا جوان کے بس میں نہیں۔
حدیث نمبر: 4808
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْبَدَاوَةِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ ، وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ لِي : يَا عَائِشَةُ ، ارْفُقِي ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ ، وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ " ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي حَدِيثِهِ : مُحَرَّمَةٌ يَعْنِي : لَمْ تُرْكَبْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شریح کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات ( بادیہ ) جانے ، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا ( کہ کیسا ہے ) آپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نالوں کی طرف دیہات ( بادیہ ) جایا کرتے تھے ، ایک بار آپ نے باہر دیہات ( بادیہ ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی ، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی ، اور مجھ سے فرمایا : اے عائشہ ! نرمی کرو ، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے ، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے ، اسے عیب دار بنا دیتی ہے ۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں : «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو ۔
حدیث نمبر: 4809
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يُحْرَمُ الرِّفْقَ ، يُحْرَمُ الْخَيْرَ كُلَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو رفق ( نرمی ) سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ تمام خیر سے محروم کر دیا جاتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4810
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَقَدْ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں ( بہتر ) ہے ، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎ ۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ نیک کاموں میں تاخیر اور التواء «سارعوا إلى مغفرة من ربكم» کے منافی ہے۔