کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: بے جا تعریف اور مدح سرائی کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4804
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى عُثْمَانَ فِي وَجْهِهِ ، فَأَخَذَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ تُرَابًا ، فَحَثَا فِي وَجْهِهِ ، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَقِيتُمُ الْمَدَّاحِينَ ، فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہمام کہتے ہیں کہ` ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا ، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4804
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (3002)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزھد 14 (3002)، (تحفة الأشراف: 11549)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزھد 54 (2393)، سنن ابن ماجہ/الأدب 36 (3742)، مسند احمد (6/5) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4805
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَجُلًا أَثْنَى عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا مَدَحَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي أَحْسِبُهُ كَمَا يُرِيدُ أَنْ يَقُولَ ، وَلَا أُزَكِّيهِ عَلَى اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی ، تو آپ نے اس سے فرمایا : ” تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی “ اسے آپ نے تین بار کہا ، پھر فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے : میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں ، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں اس کا ظاہر دیکھ کر ایسا کہہ رہا ہوں رہا اس کا باطن تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6061) صحيح مسلم (3000)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الأدب 95 (6162)، صحیح مسلم/الزھد 14 (3000)، سنن ابن ماجہ/الأدب 36 (3744)، (تحفة الأشراف: 11678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/41، 45، 46، 47، 50) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4806
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : " انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : أَنْتَ سَيِّدُنَا ، فَقَالَ : السَّيِّدُ اللَّهُ ، قُلْنَا : وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا ، فَقَالَ : قُولُوا بِقَوْلِكُمْ أَوْ بَعْضِ قَوْلِكُمْ ، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطرف کے والد عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ` میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، تو ہم نے عرض کیا : آپ ہمارے سید ، آپ نے فرمایا : ” سید تو اللہ تعالیٰ ہے ۱؎ “ ہم نے عرض کیا : اور آپ ہم سب میں درجے میں افضل ہیں اور دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں پر فائق ہونے میں سب سے عظیم ہیں ، آپ نے فرمایا : ” جو کہتے ہو کہو ، یا اس میں سے کچھ کہو ، ( البتہ ) شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے ( کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لیے زیبا نہ ہو ) “ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ وہی اس لفظ کا حقیقی مستحق ہے، اور حقیقی معنیٰ میں سید اللہ ہی ہے، اور یہ مجازی اضافی سیادت جو افراد انسانی کے ساتھ مخصوص ہے منافی نہیں، حدیث میں ہے «أنا سيد ولد آدم ولا فخر» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4806
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4900)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5349)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/24، 25) (صحیح) »