حدیث نمبر: 4798
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4799
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا . ح حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْكَيْخَارَانِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ شَيْءٍ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ " ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً الْكَيْخَارَانِيَّ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ يَعْقُوبَ ، وَهُوَ خَالُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، يُقَالُ : كَيْخَارَانِيٌّ وَكَوْخَارَانِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی “ ۔
حدیث نمبر: 4800
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَعْبٍ أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ ، وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ ، وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے ، اگرچہ وہ حق پر ہو ، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو ، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو “ ۔
حدیث نمبر: 4801
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابْنا أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ ، وَلَا الْجَعْظَرِيُّ " , قال : وَالْجَوَّاظُ : الْغَلِيظُ الْفَظُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری» جنت میں داخل ہو گا ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ دونوں لفظ کثیرالمعانی ہیں، حافظ ابن الاثیرجواظ کی شرح میں فرماتے ہیں: مال جوڑنے والا اور خرچ نہ کرنے والا، یا لحیم شحیم اپنی چال میں اترنے والا، یا چھوٹا بڑے پیٹ والا، مصباح اللغات میں «جواظ» کے معنی میں فرمایا: تکبرسے چلنے والا، اجڈ بہت کھانے والا، ابن الاثیر «جعظری» کے بارے میں فرماتے ہیں: بھدا موٹا اور متکبر، یا ایسا شخص جو ڈینگیں مارے، اور اس کے پاس کچھ نہ ہو، اور چھوٹا ناٹا ہو، مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی نے ان لفظوں کے ترجمہ میں فرمایا: فریبی یا مال جوڑنے والا، اور دمڑی خرچ نہ کر نے والا، یا موٹا غلیظ، یا بیہودہ چلانے والا بدخلق سرکش (یہ سب «جواظ» کے معنی تھے) اور مغرور سخت گویا موٹا بھدا بہت کھانے والا (یہ جب ہے کہ حرام کے مال سے موٹا ہوا ہو) (ابوداود ۳/۵۸۱)