کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عفو و درگزر کرنے اور انتقام نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4785
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا ، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا ، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو ، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا ، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مثلاً زنا میں رجم کرتے یا کوڑے لگاتے اور چوری میں ہاتھ کاٹتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4785
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6126) صحيح مسلم (2327)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المناقب 23 (3560)، والأدب 80 (6126)، والحدود 10 (6853)، صحیح مسلم/الفضائل 20 (2327)، (تحفة الأشراف: 16595)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجامع 1 (2)، مسند احمد (6/116، 182، 209، 262) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4786
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا ، وَلَا امْرَأَةً قَطُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا ، اور نہ کبھی کسی عورت کو ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4786
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أصله عند مسلم (2328)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 16664، 17262)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 20 (2328)، سنن ابن ماجہ/النکاح 51 (1984)، مسند احمد (6/206)، سنن الدارمی/النکاح 34 (2264) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4787
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ فِي قَوْلِهِ : " خُذِ الْعَفْوَ سورة الأعراف آية 199 ، قَالَ : أُمِرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ الْعَفْوَ مِنْ أَخْلَاقِ النَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے` اللہ کے فرمان «خذ العفو» ” عفو کو اختیار کرو “ کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4787
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4644)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تفسیر سورة الأعرف 5 (4644)، (تحفة الأشراف: 5277) (صحیح) »