کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4777
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ ، دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِن الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ " , قال أَبُو دَاوُد : اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (5088), أخرجه ابن ماجه (4186 وسنده حسن، عبد الله بن وھب صرح بالسماع عنده)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البر والصلة 74 (2021)، صفة القیامة 48 (3493)، سنن ابن ماجہ/الزھد 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 11298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/438، 440) (حسن) »
حدیث نمبر: 4778
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، قَالَ : مَلَأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ دَعَاهُ اللَّهُ زَادَ ، وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ بِشْرٌ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : تَوَاضُعًا ، كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ ، وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَعَالَى تَوَّجَهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا ، البتہ اتنا اضافہ ہے ، اور جو خوب ( تواضع و فروتنی میں ) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے ، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا ، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: «من زوج لله» میں مفعول محذوف ہے، اصل عبارت یوں ہے «من زوج من يحتاج إلى الزواج» یعنی جو کسی ایسے شخص کی شادی کرائے گا جو شادی کا ضرورت مند ہو، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا مفعول «كريمته» ہے یعنی جو اپنی بیٹی کی شادی کرے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ «من زوَّج» کے معنی «من أعطى لله اثنين من الأشياء» کے ہیں، یعنی جس نے اللہ کی خاطر کسی کو دو چیز دی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن عجلان عنعن وشيخه سويد بن وھب مجهول (تق: 2701), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15704) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4779
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ قَالُوا : الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الأدب / حدیث: 4779
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2608)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/البر والصلة 30 (2608)، (تحفة الأشراف: 9193)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/382) (صحیح) »