کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: خوارج کے قتل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4756
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، أخبرنا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ ، فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ مَنْ قَدْ رَآنِي وَسَمِعَ كَلَامِي , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ ؟ قَالَ : أَوْ خَيْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا : ” شاید اسے وہ شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی “ لوگوں نے عرض کیا : اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے ؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے بھی بہتر “ ( کیونکہ فتنہ و فساد کے باوجود ایمان پر قائم رہنا زیادہ مشکل ہے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (5486), أخرجه الترمذي (2234 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفتن 55 (2234)، (تحفة الأشراف: 5046) (ضعیف) » (اس کے راوی عبداللہ بن سراقہ ازدی کا سماع ابوعبیدہ بن جراح سے نہیں ہے)
حدیث نمبر: 4757
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ : تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی لائق شان حمد و ثنا بیان فرمائی ، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا : ” میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو ، نوح ( علیہ السلام ) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی : وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3055) صحيح مسلم (2930), انظر الحديث السابق (4329)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الفتن 26 (7127)، صحیح مسلم/الفتن 19 (2931)، سنن الترمذی/الفتن 56 (2236)، (تحفة الأشراف: 6932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/135، 149) (صحیح) »