کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان۔
حدیث نمبر: 4742
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أخبرنا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : أخبرنا أَسْلَمُ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصُّورُ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صور» ایک سنکھ ہے ، جس میں پھونک ماری جائے گی “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (5528), أخرجه الترمذي (3244 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/صفة القیامة 8 (2430)، تفسیر القرآن40 (3244)، (تحفة الأشراف: 8608)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/162، 192)، سنن الدارمی/الرقاق 79 (2840) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4743
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الْأَرْضُ ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، مِنْهُ خُلِقَ ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین ابن آدم ( انسان ) کے تمام اعضاء ( جسم ) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ۱؎ ، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ «إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء» ان کے بارے میں وارد ہے، اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, ورواه مسلم (2955) والبخاري (4814) من طريق آخر
تخریج حدیث « سنن النسائی/الجنائز 117 (2079)، (تحفة الأشراف: 13835)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر 4 (4814)، تفسیر النبأ 1 (4935)، صحیح مسلم/الفتن 28 (2955)، سنن ابن ماجہ/الزھد 32 (4266)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (48)، مسند احمد (2 /315، 322، 428، 499) (صحیح) »