حدیث نمبر: 4721
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يُقَالَ : هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا ، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لایا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر آدمی کو کوئی اس طرح کا شیطانی وسوسہ لاحق ہو تو اس کو دور کرنے اور ذہن سے جھٹکنے کی پوری کوشش کرے اور یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لا چکا ہوں، صحیحین کی روایت میں ہے: میں اللہ و رسول پر ایمان لا چکا ہوں۔
حدیث نمبر: 4722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أخبرنا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : " فَإِذَا قَالُوا ذَلِكَ فَقُولُوا : اللَّهُ أَحَدٌ { 1 } اللَّهُ الصَّمَدُ { 2 } لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ { 3 } وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ { 4 } سورة الإخلاص آية 1-4 ، ثُمَّ لِيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَسْتَعِذْ مِنَ الشَّيْطَانِ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ، پھر اس جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو : «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» ” اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎ ، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے “ پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے “ ۔
وضاحت:
۱؎: احد وہ ہے جس کا کوئی مثیل و نظیر نہ ہو، صمد وہ کہ سب اس کے محتاج ہوں وہ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں۔
حدیث نمبر: 4723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، أخبرنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : " كُنْتُ فِي الْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَحَابَةٌ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ ؟ , قَالُوا : السَّحَابَ ، قَالَ : وَالْمُزْنَ , قَالُوا : وَالْمُزْنَ ، قَالَ : وَالْعَنَانَ ، قَالُوا : وَالْعَنَانَ , قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ أُتْقِنْ الْعَنَانَ جَيِّدًا ، قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ؟ قَالُوا : لَا نَدْرِي ، قَالَ : إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَهُمَا : إِمَّا وَاحِدَةٌ ، أَوِ اثْنَتَانِ ، أَوْ ثَلَاثٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً ، ثُمَّ السَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، ثُمَّ فَوْقَ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِمُ الْعَرْشُ مَا بَيْنَ أَسْفَلِهِ وَأَعْلَاهُ مِثْلُ مَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ ، ثُمَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا : ” تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : «سحاب» ( بادل ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور «مزن» بھی “ لوگوں نے کہا : ہاں «مزن» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور «عنان» بھی “ لوگوں نے عرض کیا : اور «عنان» بھی ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے ، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے “ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے ” پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی فرشتے ان کی شکل میں ہیں۔
حدیث نمبر: 4724
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ ،أنبأنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : أنبأنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی سماک` سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4725
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ :حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ بِإِسْنَادِهِ ، ومعنى هذا الحديث الطويل .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی سماک` سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 4726
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، قَالُوا : أخبرنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ : كَتَبْنَاهُ مِنْ نُسْخَتِهِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق يُحَدِّثُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جُهِدَتِ الْأَنْفُسُ ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ ، وَهَلَكَتِ الْأَنْعَامُ ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا ، فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ ، وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ ، أَتَدْرِي مَا تَقُولُ ؟ , وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَالَ : وَيْحَكَ ، إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ ، وَيْحَكَ ، أَتَدْرِي مَا اللَّهُ ؟ إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا ، وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ " , قال ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ أبو داود : وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ ، ووَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ : يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ أَيْضًا ، وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَابْنِ الْمُثَنَّى ، وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگ مصیبت میں پڑ گئے ، گھربار تباہ ہو گئے ، مال گھٹ گئے ، جانور ہلاک ہو گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے ، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں ، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا برا ہو ، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے ، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا ، پھر فرمایا : ” تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا ، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے ، تمہارا برا ہو ! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے ، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ( آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا ) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے ، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے ) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے ، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے “ اور پھر پوری حدیث ذکر کی ۔ عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے ۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے ، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے ، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے ، اور عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ، ایک ہی نسخے سے ہے ۔
حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أخبرنا أَبِي ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ ، مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ ، إِنَّ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: عمدہ گھوڑے کی چال سے جیسا کہ دوسری حدیث میں مروی ہے، اس حدیث کا مقصود حاملین عرش کا طول و عرض اور عظمت و جثہ بتانا ہے، اور ستر کا عدد بطور تحدید نہیں ہے بلکہ اس سے کثرت مراد ہے۔
حدیث نمبر: 4728
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ المعنى ، قَالَا : أنبأنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، أخبرنا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ : " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى سَمِيعًا بَصِيرًا سورة النساء آية 58 ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ إِبْهَامَهُ عَلَى أُذُنِهِ ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى عَيْنِهِ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَيَضَعُ إِصْبَعَيْهِ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : قَالَ الْمُقْرِئُ : يَعْنِي إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ : يَعْنِي أَنَّ لِلَّهِ سَمْعًا وَبَصَرًا , قال أَبُو دَاوُد : وَهَذَا رَدٌّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» ” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے “ ( سورۃ النساء : ۵۸ ) تک پڑھتے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے ، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا ۔ ابن یونس کہتے ہیں : عبداللہ بن یزید مقری نے کہا : یعنی «إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں جہمیہ کا رد بلیغ ہے، جہمیہ اللہ کے لئے صفت سمع و بصر کی نفی کرتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا اور انگلی رکھ کر ان کی تردید فرما دی، جہمیہ تشبیہ سے بچنے کے لئے ایسا کہتے ہیں، جب کہ اس میں تشبیہ ہے ہی نہیں، مقصود صفت سمع (سننا) صفت بصر (دیکھنا) کا اثبات ہے، یہ مقصود نہیں کہ اس کی آنکھ وکان ہماری آنکھ اور کان جیسے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ کان اس کی عظمت وجلال کے لائق ہیں، بلا کسی کیفیت تشبیہ، وتمثیل اور تعطیل کے سبحانہ تعالیٰ۔