کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: فتنہ و فساد کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4662
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ : وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا “ ۔ حماد کی روایت میں ہے : ” شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح سچ ثابت ہوئی کہ حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور ایک عظیم فتنہ کو ختم کر دیا یہ سال اتحاد ملت کا سال تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4662
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (3629)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلح 9 (27004)، المناقب 25 (3629)، فضائل الصحابة 22 (3746)، الفتن 20 (7109)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3773)، سنن النسائی/الجمعة 27 (1411)، (تحفة الأشراف: 11658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5 /37، 44، 49، 51) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4663
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ " مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ ، إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو ، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ھشام بن حسان مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4664
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ ضُبَيْعَةَ ، قَالَ : " دَخَلْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْرِفُ رَجُلًا لَا تَضُرُّهُ الْفِتَنُ شَيْئًا ، قَالَ : فَخَرَجْنَا فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ ، فَدَخَلْنَا فَإِذَا فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا أُرِيدُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ أَمْصَارِكُمْ حَتَّى تَنْجَلِيَ عَمَّا انْجَلَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ` ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا : میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے ، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے ، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں ؟ ) تو فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے ، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4664
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ثعلبة بن ضبيعة ھو ضبيعة بن حصين : مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح) » (اس کے راوی ثعلبہ یا ضبیعہ مجہول ہیں لیکن سابقہ حدیث کی تقویت سے صحیح ہے)
حدیث نمبر: 4665
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّعْلَبِيِّ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی` اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4665
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (4664), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3381) (صحیح) » ( ثعلبہ بن ضبیعہ اور ضبیعہ بن حصین ایک ہی ہیں جو مجہول ہیں اور سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
حدیث نمبر: 4666
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : " قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ ؟ فَقَالَ : مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن عباد کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : ہمیں آپ ( معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے ) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں ، وہ بولے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, تقدم (4530) وللحديث شواھد
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10258)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/142، 148) (صحیح الإسناد) »
حدیث نمبر: 4667
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہو گا قتل کرے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1065)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزکاة 47 (1064)، (تحفة الأشراف: 44370)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/32، 97) (صحیح) »