حدیث نمبر: 4657
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا . ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا ، ثُمَّ يَظْهَرُ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَفْشُو فِيهِمُ السِّمَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں “ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں ، ” پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے ، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے ، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا ، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
وضاحت ۱؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش وآرام کے عادی ہو جائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہوگی۔