حدیث نمبر: 4632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَعَلَا بِهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلَأُعَبِّرَنَّهَا ، فَقَالَ : اعْبُرْهَا ، قَالَ : أَمَّا الظُّلَّةُ : فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ ، وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ : فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ ، وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ : فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ : فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ : أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ، فَقَالَ : أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تُقْسِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا ، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا ، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں ، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم ، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے ، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول ! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے ، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا ، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا ، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا ، تو وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی تعبیر بیان کرو “ وہ بولے : بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے ، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت ( شیرینی ) اور نرمی مراد ہے ، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں ، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں ، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں ، اللہ آپ کو اٹھا لے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا ، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا ، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا ، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا ، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط “ کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم نہ دلاؤ “ ۔
حدیث نمبر: 4633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے` لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ نے ان کو بتانے سے انکار کر دیا ، ( کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 4634
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَوُزِنَ عُمَرُ، وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوُزِنَ عُمَرُ ، وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ ، فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ “ ایک شخص بولا : میں نے دیکھا : گویا ایک ترازو آسمان سے اترا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا ، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے ، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے ، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے ، پھر ترازو اٹھا لیا گیا ، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی ۔
حدیث نمبر: 4635
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيه ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ؟ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ ، قَالَ : فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ “ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ( خواب ) برا لگا ، اور فرمایا : ” وہ نبوت کی خلافت ہے ، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4636
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ يُونُسُ ، وَشُعَيْبٌ ، لَمْ يَذْكُرَا عَمْرَو بْنَ أَبَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے ، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے “ ۔ جابر کہتے ہیں : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا : مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر ( دین ) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے ، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَانْتَشَطَتْ وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا ، پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا ، پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا ، پھر علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں ، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا ۔
حدیث نمبر: 4638
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، قَالَ : " لَتَمْخُرَنَّ الرُّومُ ، الشَّامَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، لَا يَمْتَنِعُ مِنْهَا إِلَّا دِمَشْقَ ، وَعَمَّانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مکحول نے کہا` رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا ۔
حدیث نمبر: 4639
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَعْيَسِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَلْمَانَ ، يَقُولُ : "سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ يَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كُلِّهَا إِلَّا دِمَشْقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالعزیز بن علاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ` عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے ۔
حدیث نمبر: 4640
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ : أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مکحول کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ ۱؎ کہا جاتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: دمشق کے پاس ملک شام میں ایک جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 4641
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا : إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة آل عمران آية 55 ، يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا : عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے ، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ” جب اللہ نے کہا کہ : اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں ، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں ، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں “ ( سورۃ آل عمران : ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ تفسیر بالرائے کی بدترین قسم ہے حجاج نے اس آیت کریمہ کو اپنے اور اپنے مخالفوں پر منطبق کر ڈالا جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، آج بھی بعض اہل بدعت آیات قرآنیہ کی من مانی تفسیر کرتے رہتے ہیں، اور اہل حق کو اہل باطل اور باطل پرستوں کو اہل حق باور کراتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4642
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ ؟ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لِلَّهِ : عَلَيَّ أَلَّا أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلَاةً أَبَدًا ، وَإِنْ وَجَدْتُ قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لَأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ ، زَادَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا ، اس نے اپنے خطبے میں کہا : تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے ( پیغام لے جا رہا ) ہو زیادہ درجے والا ہے ، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو ؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا : اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں ، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا ۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے ۔
حدیث نمبر: 4643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : " اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ ، وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ ، وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلَالًا ، وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ ، فَيَقُولُ إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ : قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ ، فَوَاللَّهِ لَأَدَعَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الدَّابِرِ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُهُ لِلْأَعْمَشِ ، فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا : جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو ، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے ، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو ، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے ، اللہ کی قسم ، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں ، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے ، اور کون مجھے عبدہذیل ( عبداللہ بن مسعود ہذلی ) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی ، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں ، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا ، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے ، پھر کہتا ہے ، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے ؟ ( فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے ) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے ، اللہ کی قسم ، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا ، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا ( جو اب کبھی نہیں آنے والا ) ۔ عاصم کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے : اللہ کی قسم میں نے بھی اسے ، اس سے سنا ہے ۔
حدیث نمبر: 4644
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ ، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ قَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا لَأَذَرَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الذَّاهِبِ ، يَعْنِي الْمَوَالِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اعمش کہتے ہیں کہ` میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا : یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ ، موالی ( غلامو ) سنو ، اللہ کی قسم ، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا ، یعنی عجمیوں کو ۔
حدیث نمبر: 4645
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ ، فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالَ فِيهَا : " فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ ، وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان الاعمش کہتے ہیں` میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی ، اس نے خطبہ دیا ، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت ( ۴۶۴۳ ) ذکر کی ، اس میں ہے کہ اس نے کہا : سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو ، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا : اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں ( تو یہ غلط نہ ہو گا ) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 4646
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ " ، قَالَ سَعِيدٌ : قَالَ لِي سَفِينَةُ : أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَبَا بَكْرٍ سَنَتَيْنِ ، وَعُمَرُ عَشْرًا ،وَعُثْمَانُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ وَعَلِيٌّ كَذَا ، قَالَ سَعِيدٌ : قُلْتُ لِسَفِينَةَ : إِنَّ هَؤُلَاءِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام لَمْ يَكُنْ بِخَلِيفَةٍ ، قَالَ : كَذَبَتْ أَسْتَاهُ بَنِي الزَّرْقَاءِ ، يَعْنِي بَنِي مَرْوَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال رہے گی ۱؎ ، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا “ سعید کہتے ہیں : سفینہ نے مجھ سے کہا : اب تم شمار کر لو : ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال ، عمر رضی اللہ عنہ دس سال ، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال ، اور علی رضی اللہ عنہ اتنے سال ۔ سعید کہتے ہیں : میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا : یہ لوگ ( مروانی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے ، انہوں نے کہا : بنی زرقاء یعنی بنی مروان کے ۲؎ چوتڑ جھوٹ بولتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدت خلافت: دو سال، تین ماہ، دس دن، عمر رضی اللہ عنہ کی: دس سال، چھ ماہ، آٹھ دن، عثمان رضی اللہ عنہ کی: گیارہ سال، گیارہ ماہ، نو دن، علی رضی اللہ عنہ کی: چار سال، نو ماہ، سات دن، حسن رضی اللہ عنہ کی: سات ماہ، کل مجموعہ: تیس سال ایک ماہ۔
۲؎: زرقاء بنی امیہ کی امّہات میں سے ایک خاتون کا نام ہے۔
۲؎: زرقاء بنی امیہ کی امّہات میں سے ایک خاتون کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 4647
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً ، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ أَوْ مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا ، دے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ الْكُوفَةِ أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا ، فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : وَالْعَرَبُ تَقُولُ : آثَمُ ، قُلْتُ : وَمَنِ التِّسْعَةُ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ : " اثْبُتْ حِرَاءُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ، قُلْتُ : وَمَنِ التِّسْعَةُ ؟ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ،وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي ، وَقَّاصٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، قُلْتُ : وَمَنِ الْعَاشِرُ ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً ، ثُمَّ قَالَ : أَنَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎ ، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں ، اور کہا : اگر میں دسویں شخص ( کے جنت میں داخل ہونے ) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا ، ( ابن ادریس کہتے ہیں : عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے ) «آثم» کہتے ہیں ) ، میں نے پوچھا : اور وہ نو کون ہیں ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس وقت آپ حراء ( پہاڑی ) پر تھے : ” حراء ٹھہر جا ( مت ہل ) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید “ میں نے عرض کیا : اور نو کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ، میں نے عرض کیا : اور دسواں آدمی کون ہے ؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا : میں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اشجعی نے سفیان سے ، سفیان نے منصور سے ، منصور نے ہلال بن یساف سے ، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ’’ فلاں شخص کوفہ میں آیا ‘‘ اس سے کنایہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اور ’’ فلاں شخص خطبہ کے لئے کھڑا ہوا ‘‘ اس سے کنایہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اس جیسے مقام کے لئے کنایہ ہی بہتر تھا تاکہ شرف صحابیت مجروح نہ ہو۔
۲؎: یہ عبداللہ بن ظالم مازنی کا قول ہے۔
۳؎: اس سے مراد خطیب ہے۔
۴؎: جو علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔
۲؎: یہ عبداللہ بن ظالم مازنی کا قول ہے۔
۳؎: اس سے مراد خطیب ہے۔
۴؎: جو علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 4649
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ رَجُلٌ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ : النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَعُمَرُ ، فِي الْجَنَّةِ ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي الْجَنَّةِ ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شِئْتَ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ ، قَالَ : فَقَالُوا : مَنْ هُوَ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : فَقَالُوا : مَنْ هُوَ ؟ فَقَالَ : هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ` وہ مسجد میں تھے ، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا ( برائی کے ساتھ ) تذکرہ کیا ، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا : ” دس لوگ جنتی ہیں : ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر بن عوام جنتی ہیں ، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں “ اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا ، وہ کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کیا : وہ کون ہیں ؟ تو وہ خاموش رہے ، لوگوں نے پھر پوچھا : وہ کون ہیں ؟ تو کہا : وہ سعید بن زید ہیں ۔
حدیث نمبر: 4650
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ فُلَانٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ ، فَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَرَحَّبَ بِهِ وَحَيَّاهُ وَأَقْعَدَهُ عِنْدَ رِجْلِهِ عَلَى السَّرِيرِ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ عَلْقَمَةَ فَاسْتَقْبَلَهُ فَسَبَّ وَسَبَّ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : مَنْ يَسُبُّ هَذَا الرَّجُلُ ؟ قَالَ : يَسُبُّ عَلِيًّا ، قَالَ : أَلَا أَرَى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ ثُمَّ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ ، أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، وَإِنِّي لَغَنِيٌّ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ فَيَسْأَلَنِي عَنْهُ غَدًا إِذَا لَقِيتُهُ :أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ریاح بن حارث کہتے ہیں` میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص ۱؎ کے پاس بیٹھا تھا ، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے ، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے ، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا ، اور دعا دی ، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا ، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا ، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا ، لیکن اس نے برا بھلا کہا اور سب وشتم کیا ، سعید بولے : یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے ، وہ بولے : کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں : ” ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں “ پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا ، پھر ان ( صحابہ ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے مراد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: ایک شخص کا ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہونا اور اس کاگرد و غبار برداشت کرنا غیر صحابی کی ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے چاہے اس کی زندگی کتنی ہی طویل اور نوح علیہ السلام کی زندگی کے برابر ہو جن کی صرف دعوتی زندگی ساڑھے نو سو سال تھی، اس سے صحابہ کرام کا احترام اور ان کی فضیلت واضح ہوتی ہے اسی لئے امت کا عقیدہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ولی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲؎: ایک شخص کا ایمان کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہونا اور اس کاگرد و غبار برداشت کرنا غیر صحابی کی ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے چاہے اس کی زندگی کتنی ہی طویل اور نوح علیہ السلام کی زندگی کے برابر ہو جن کی صرف دعوتی زندگی ساڑھے نو سو سال تھی، اس سے صحابہ کرام کا احترام اور ان کی فضیلت واضح ہوتی ہے اسی لئے امت کا عقیدہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ولی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حدیث نمبر: 4651
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ ، فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر ، عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے ، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا : ” ٹھہر جا اے احد ! ( تیرے اوپر ) ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: تیرے اوپر ایک نبی یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ایک صدیق یعنی ابوبکر، اور دو شہید یعنی عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں، یہ تیرے لئے باعث فخر ہے۔
حدیث نمبر: 4652
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ مَوْلَى آلِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي تَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی “ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اے ابوبکر ! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے “ ۔
حدیث نمبر: 4653
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) “ ۔
حدیث نمبر: 4654
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مُوسَى : فَلَعَلَّ اللَّهَ ، وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ : " اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے ، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے ) ” اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا : جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان اصحاب بدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے بعد کوئی عمل اللہ کی منشاء کے خلاف بھی ہو جائے تو وہ ان سے باز پرس نہ فرمائے گا کیونکہ ان کو معاف کر چکا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کو بداعمالیوں کی اجازت دی جا رہی ہے یا یہ کہ ان سے دنیا میں بھی باز پرس نہ ہو گی بلکہ اگر خدانخواستہ وہ دنیا میں کوئی عمل قابل حد کر بیٹھے تو حد جاری کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 4655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَأَتَاهُ يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ ، وَقَالَ : أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے ، پھر راوی نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا ، جب وہ آپ سے بات کرتا ، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود ، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا : اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : مغیرہ بن شعبہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4656
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ،عَنِ الْأَقْرَعِ مُؤَذِّنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " بَعَثَنِي عُمَرُ إِلَى الْأُسْقُفِّ فَدَعَوْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : وَهَلْ تَجِدُنِي فِي الْكِتَابِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَيْفَ تَجِدُنِي ؟ قَالَ : أَجِدُكَ قَرْنًا فَرَفَعَ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ ، فَقَالَ : قَرْنٌ مَهْ ؟ فَقَالَ : قَرْنٌ حَدِيدٌ أَمِينٌ شَدِيدٌ ، قَالَ : كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي يَجِيءُ مِنْ بَعْدِي ؟ فَقَالَ : أَجِدُهُ خَلِيفَةً صَالِحًا غَيْرَ أَنَّهُ يُؤْثِرُ قَرَابَتَهُ ، قَالَ عُمَرُ : يَرْحَمُ اللَّهُ عُثْمَانَ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : كَيْفَ تَجِدُ الَّذِي بَعْدَهُ ؟ قَالَ : أَجِدُهُ صَدَأَ حَدِيدٍ ، فَوَضَعَ عُمَرُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : يَا دَفْرَاهُ يَا دَفْرَاهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّهُ خَلِيفَةٌ صَالِحٌ ، وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْلَفُ حِينَ يُسْتَخْلَفُ وَالسَّيْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُهْرَاقٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الدَّفْرُ النَّتْنُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں` مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا ، میں اسے بلا لایا ، تو عمر نے اس سے کہا : کیا تم کتاب میں مجھے ( میرا حال ) پاتے ہو ؟ وہ بولا : ہاں ، انہوں نے کہا : کیسا پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں آپ کو قرن پاتا ہوں ، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا : قرن کیا ہے ؟ وہ بولا : لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار ، انہوں نے کہا : جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا ، عمر نے کہا : اللہ عثمان پر رحم کرے ، ( تین مرتبہ ) پھر کہا : ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : وہ تو لوہے کا میل ہے ( یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے ) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، اور فرمایا : اے گندے ! بدبودار ( تو یہ کیا کہتا ہے ) اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی ، خون بہہ رہا ہو گا ، ( یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں ۔