کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لوہے کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ ، فَقِيلَ لَهَا : مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا ، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا ، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا ، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں ، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا ، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672), وانظر الحديث السابق (4527)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4527)، (تحفة الأشراف: 1391) (صحیح) »