کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟
حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ المعنى واحد ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، قَالَ سَعْدٌ : بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ سعد نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں “ ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں ، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1498)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/اللعان 1 (1498)، سنن ابن ماجہ/الحدود 34 (2605)، (تحفة الأشراف: 12699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 19 (17)، الحدود 1(7)، مسند احمد (2/465) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4533
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1498)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12737) (صحیح) »