کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَبِمَنْ ؟ قَالَ : بِفُلَانَةٍ ، فَقَالَ : هَلْ ضَاجَعْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ بَاشَرْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ جَامَعْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا ، ان سے میرے والد نے کہا : جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو ، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے ، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے ؟ “ ماعز نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اس سے چمٹے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا ، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا ، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے ، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے ، ان کے ساتھی تھک چکے تھے ، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ان سے اسے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎ ، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا “ ۔
وضاحت:
۱؎: مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ۲؎: کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول «هلا تركتموه» اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کر دیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کر دیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله لعله أن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3565، 3581), انظر الحديث السابق (4377)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 11652)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/217) (صحیح) » آخری ٹکڑا: «لعله أن يتوب ...» صحیح نہیں ہے
حدیث نمبر: 4420
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قِصَّةَ مَاعِزِ ابْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ لِي : حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ذَلِكَ ، مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ مَنْ شِئْتُمْ مِنْ رِجَالِ أَسْلَمَ مِمَّنْ لَا أَتَّهِمُ ، قَالَ : وَلَمْ أَعْرِفْ هَذَا الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَجِئْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَسْلَمَ يُحَدِّثُونَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ حِينَ ذَكَرُوا لَهُ جَزَعَ مَاعِزٍ مِنَ الْحِجَارَةِ حِينَ أَصَابَتْهُ : أَلَّا تَرَكْتُمُوهُ ، وَمَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ ، " إِنَّا لَمَّا خَرَجْنَا بِهِ فَرَجَمْنَاهُ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ ، صَرَخَ بِنَا : يَا قَوْمُ رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ قَوْمِي قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي ، وَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِي ، فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْنَاهُ ، قَالَ : فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ وَجِئْتُمُونِي بِهِ لِيَسْتَثْبِتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَمَّا لِتَرْكِ حَدٍّ فَلَا " ، قَالَ : فَعَرَفْتُ وَجْهَ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ` میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں : مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے ، حسن کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی ، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا “ یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی ، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : بھتیجے ! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں ، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے : لوگو ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو ، میری قوم نے مجھے مار ڈالا ، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے ، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے ، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں ، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ، میرے پاس لے آتے “ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے ، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے ، اور حد قائم نہ کرتے ، وہ کہتے ہیں : تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2231)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/381) (حسن) »
حدیث نمبر: 4421
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ زَنَى ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَسَأَلَ قَوْمَهُ : أَمَجْنُونٌ هُوَ ؟ قَالُوا : لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، قَالَ : أَفَعَلْتَ بِهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَانْطُلِقَ بِهِ فَرُجِمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے ، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا ، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے ، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا : ” کیا یہ دیوانہ تو نہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ایسی کوئی بات نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : ہاں واقعی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا ، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا ، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, انظر الحديث الآتي (4427)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6065) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4422
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا قَصِيرًا أَعْضَلَ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَعَلَّكَ قَبَّلْتَهَا ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخِرُ ، قَالَ : فَرَجَمَهُ ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ : أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ ، أَمَا إِنَّ اللَّهَ إِنْ يُمَكِّنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَلْتُهُ عَنْهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے ، ان کے جسم پر چادر نہ تھی ، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا ، پھر خطبہ دیا ، اور فرمایا : ” آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں ، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے ، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان ( جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے ) تو سن لو ! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا ( یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1692)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 5 (1692)، (تحفة الأشراف: 2196)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/86، 87) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ ، قَالَ : فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ، قَالَ سِمَاكٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سماک کہتے ہیں` میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے ، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا ، سماک کہتے ہیں : میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ” آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4423
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1692)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2181) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4424
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ أَبِي عَقِيلٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ : فَسَأَلْتُ سِمَاكًا عَنِ الْكُثْبَةِ ؟ فَقَالَ : اللَّبَنُ الْقَلِيلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبہ کہتے ہیں` میں نے سماک سے «کثبہ» کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے تو انہوں نے کہا : «کثبہ» تھوڑے دودھ کو کہتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4424
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4222) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4425
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِك : " أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ قَالَ : وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي ؟ قَالَ : بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ ، قَالَ : نَعَمْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے ؟ “ وہ بولے : میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر چار بار اس کی گواہی دی ، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1693)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 5 (1693)، سنن الترمذی/الحدود 4 (1427)، (تحفة الأشراف: 5519)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/245، 314، 328) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4426
حَدَّثَنَا  نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ  ، أَخْبَرَنَا  أَبُو أَحْمَدَ  ، أَخْبَرَنَا  إِسْرَائِيلُ  ، عَنْ  سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ  ، عَنْ  سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ  ، عَنِ  ابْنِ عَبَّاسٍ  ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ فَطَرَدَهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا مَرَّتَيْنِ ، فَقَالَ : " شَهِدْتَ عَلَى نَفْسِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا ، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی ، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4426
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5520)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/314) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4427
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ : " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَنِكْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُوسَى : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا لَفْظُ وَهْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا ، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا ، یا دیکھا ہو گا ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، ایسا نہیں ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4427
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن، صحيح بخاري (6824)
تخریج حدیث « خ /الحدود 28 (6824)، (تحفة الأشراف: 6276، 19125)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/238، 270) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4428
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ ، فَقَالَ : أَنِكْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِي ذَلِكَ مِنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلَالًا ، قَالَ : فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ؟ فَقَالَا : نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ ، فَقَالَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا ؟ قَالَ : فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْقَمِسُ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے ، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے ، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا “ بولا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں ، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے “ اس نے کہا : ہاں ایسے ہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے ، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اچھا ، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے ؟ “ اس نے کہا : میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے ، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا ، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو ، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی ، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے ، اور تھوڑی دیر چلتے رہے ، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فلاں اور فلاں کہاں ہیں ؟ “ وہ دونوں بولے : ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ “ ان دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا گوشت کون کھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3627), عبد الرزاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (814)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4429
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ ، زَادَ : وَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : رُبِطَ إِلَى شَجَرَةٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وُقِفَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے` اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے ( میدان میں ) کھڑا کر دیا گیا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4428)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4430
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبِكَ جُنُونٌ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أُحْصِنْتَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذَلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرًا ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا ، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا ، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تجھے جنون ہے ؟ “ اس نے کہا : ایسی کوئی بات نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو شادی شدہ ہے “ اس نے کہا : ہاں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا ، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا ، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے ، پھر پکڑ لیے گئے ، اور پتھروں سے مارے گئے ، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, اختصره مسلم (1691) ولم يسق متنه وحديثه يدل علٰي أن الزھري سمع من أبي سلمة ھذا الحديث
تخریج حدیث « خ /الطلاق 11 (5270)، الحدود 21 (6814)، 25 (6820)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1691)، سنن الترمذی/الحدود 5 (1429)، ن /الجنائز 63 (1958)، (تحفة الأشراف: 3149)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/323)، دي /الحدود 12 (2361) (صحیح) إلا أن (خ) قال: وصلي علیہ وھي شاذة »
حدیث نمبر: 4431
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَهَذَا لَفْظُهُ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَمَّا " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : قَالَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ ، حَتَّى أَتَى عَرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ حَتَّى سَكَتَ ، قَالَ : فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے ، قسم اللہ کی ! نہ ہم نے انہیں باندھا ، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا ، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے ، ہم نے انہیں ہڈیوں ، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا ، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے ، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے ، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی ، اور نہ ہی انہیں برا کہا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1694)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، (تحفة الأشراف: 4313)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الحدود 14 (2365) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4432
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ ، قَالَ : ذَهَبُوا يَسُبُّونَهُ فَنَهَاهُمْ ، قَالَ : ذَهَبُوا يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ فَنَهَاهُمْ ، قَالَ : هُوَ رَجُلٌ أَصَابَ ذَنْبًا حَسِيبُهُ اللَّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابونضرہ سے روایت ہے` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آگے اسی جیسی روایت ہے ، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے : لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے ، تو آپ نے انہیں منع فرمایا ، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا ، اور فرمایا : ” وہ ایک شخص تھا جس نے گناہ کیا ، اب اللہ اس سے سمجھ لے گا ( چاہے گا تو معاف کر دے ورنہ اسے سزا دے گا تم کیوں دخل دیتے ہو ) “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4432
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مرسل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, أبو نضرة المنذر بن مالك من التابعين, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4331) (ضعیف) » (ابو نضرة منذر بن مالک بن قطعة تابعی ہیں، اور انہوں نے واسطہ ذکر نہیں کیا ہے، اس لئے حدیث مرسل وضعیف ہے)
حدیث نمبر: 4433
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ،عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْكَهَ مَاعِزًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کا منہ سونگھا ( اس خیال سے کہ کہیں اس نے شراب نہ پی ہو ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1695)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 5 (1695)، (تحفة الأشراف: 1934)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/347، 348)، سنن الدارمی/الحدود 14 (2366) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4434
حَدَّثَنَا  أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْأَهْوَازِيُّ  ، حَدَّثَنَا  أَبُو أَحْمَدَ  ، حَدَّثَنَا  بُشَيْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ  ، حَدَّثَنِي  عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ  ، عَنْ  أَبِيهِ  ، قَالَ : كُنَّا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَحَدَّثُ : " أَنَّ الْغَامِدِيَّةَ ، وَمَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ رَجَعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا ، أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ يَرْجِعَا بَعْدَ اعْتِرَافِهِمَا لَمْ يَطْلُبْهُمَا ، وَإِنَّمَا رَجَمَهُمَا عِنْدَ الرَّابِعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ۱؎ اور ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے ، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے ( اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا ) ۔
وضاحت:
۱؎: قبیلہ غامد کی ایک عورت جسے زنا کی وجہ سے رجم کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, بشير بن المھاجر حسن الحديث
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1948) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4435
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ ، قَالَ عَبْدَةُ : أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلَاجِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ اللَّجْلَاجَ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا يَعْتَمِلُ فِي السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ تَحْمِلُ صَبِيًّا فَثَارَ النَّاسُ مَعَهَا وَثُرْتُ فِيمَنْ ثَارَ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ ؟ فَسَكَتَتْ ، فَقَالَ شَابٌّ حَذْوَهَا : أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : مَنْ أَبُو هَذَا مَعَكِ ؟ قَالَ الْفَتَى : أَنَا أَبُوهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعْضِ مَنْ حَوْلَهُ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ ، فَقَالُوا : مَا عَلِمْنَا إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْصَنْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا بِهِ فَحَفَرْنَا لَهُ حَتَّى أَمْكَنَّا ثُمَّ رَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى هَدَأَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : هَذَا جَاءَ يَسْأَلُ عَنِ الْخَبِيثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَهُوَ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، فَإِذَا هُوَ أَبُوهُ فَأَعَنَّاهُ عَلَى غُسْلِهِ وَتَكْفِينِهِ وَدَفْنِهِ ، وَمَا أَدْرِي ؟ قَالَ : وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ أَمْ لَا ؟ " ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدَةَ وَهُوَ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ` ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے : ” اس بچہ کا باپ کون ہے ؟ “ وہ عورت چپ تھی ، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے ، اور پوچھا : ” اس بچے کا باپ کون ہے ؟ “ تو نوجوان نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! میں اس کا باپ ہوں ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا ، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے ؟ تو لوگوں نے کہا : ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا تم شادی شدہ ہو ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا ، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، اتنے میں ایک شخص آیا ، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا ، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ہم نے کہا : یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ” اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی ( مدد کی ) کہا یا نہیں “ یہ عبدہ کی روایت ہے ، اور زیادہ کامل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11171)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/479) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 4436
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ جَمِيعًا ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَقَالَ هِشَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی الجلاج سے یہی` روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4435)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11171) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 4437
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا ، زنا کیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا ، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے ، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی ، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4437
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4705)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 5/339، 340)، ویأتی برقم (4466) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4438
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا . ح حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ الْمَعْنَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ ، ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، مَوْقُوفًا عَلَى جَابِرٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِنَحْوِ ابْنِ وَهْبٍ ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا زَنَى فَلَمْ يُعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عُلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے ، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے ، اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا ، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا ، تو اسے کوڑے مارے گئے ، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج وأبو الزبير عنعنا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2832) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4439
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَلَمْ يَعْلَمْ بِإِحْصَانِهِ فَجُلِدَ ثُمَّ عَلِمَ بِإِحْصَانِهِ فَرُجِمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے ، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (4438), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2832) (ضعیف) »