کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4398
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَكْبَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4398
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (3462) ابن ماجه (2041), حماد بن أبي سليمان و إبراھيم النخعي مدلسان و عنعنا (حماد بن أبي سليمان : الفتح المبين ص 38،إبراهيم النخعي : تقدم : 2235), وانظر حديث (ح 4399،4400), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
تخریج حدیث « سنن النسائی/الطلاق 21 (3462)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 101، 144)، دی/ الحدود 13 (2343) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4399
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ ، مُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ قَالُوا : مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ ، قَالَ : فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَمَا بَالُ هَذِهِ ؟ تُرْجَمُ ، قَالَ : لَا شَيْءَ قَالَ : فَأَرْسِلْهَا قَالَ : فَأَرْسَلَهَا قَالَ : فَجَعَلَ يُكَبِّرُ "
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا ، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا ، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے واپس لے چلو ، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، کہا : کیوں نہیں ؟ ضرور معلوم ہے ، تو بولے : پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے ؟ بولے : کوئی بات نہیں ، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر اسے چھوڑیئے ، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4399
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10196)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الحدود 1 (عقیب 1423)، مسند احمد (1/155، 158) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4400
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ أَيْضًا : حَتَّى يَعْقِلَ ، وَقَالَ : وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَفِيقَ ، قَالَ : فَجَعَلَ عُمَرُ يُكَبِّرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے اعمش سے` اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی «حتى يعقل» ہے اور «عن المجنون حتى يبرأ» کے بجائے «حتى يفيق» ہے ، اور «فجعل يكبر» کے بجائے «فجعل عمر يكبر» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4400
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4401
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَى عُثْمَانَ قَالَ : أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، قَالَ : صَدَقْتَ قَالَ فَخَلَّى عَنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا ، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے ، اس میں ہے : کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے “ تو عمر رضی اللہ عنہ بولے : تم نے سچ کہا ، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4401
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سليمان بن مھران الأعمش مدلس وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4399)، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4402
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، قَالَ هَنَّادٌ الْجَنْبيُّ ، قَالَ : " أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهَا ، فَخَلَّى سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ ، قَالَ : ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَبْلُغَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَبْرَأَ ، وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَدْرِي ، فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَا لَا أَدْرِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا ، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : امیر المؤمنین ! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے : بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے “ اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے ، فلاں قوم کی ہے ، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی ، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله لعل الذي , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطاء بن السائب اختلط, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10196، 10078) (صحیح) » دون قولہ : «لعل الذی» سے آخر تک ثابت نہیں ہے
حدیث نمبر: 4403
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِيهِ وَالْخَرِفِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے ، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ، اور اس میں ” کھوسٹ بوڑھے “ کا اضافہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند منقطع, أبو الضحي لم يدرك عليًا رضي اللّٰه عنه, وصح موقوفًا كما تقدم (4400), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10277)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/116، 140) (صحیح) »