کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مرتد (دین اسلام سے پھر جانے والے) کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4351
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام أَحْرَقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ : لَمْ أَكُنْ لِأُحْرِقَهُمْ بِالنَّارِ ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ" .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عکرمہ سے روایت ہے کہ` علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھر گئے تھے آگ میں جلوا دیا ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے “ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی رو سے انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے اسے قتل کر دو “ پھر جب علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6922)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجہاد 149 (3017)، المرتدین 2 (6922)، سنن الترمذی/الحدود 25 (1458)، سنن النسائی/المحاربة 11 (4064)، سنن ابن ماجہ/الحدود 2 (2535)، (تحفة الأشراف: 5987)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/282، 283، 323) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4352
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : الثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے ، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں ، سوائے تین صورتوں کے : یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو ، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا ، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6878) صحيح مسلم (1676)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الدیات 6 (6878)، صحیح مسلم/القسامة 6 (1676)، سنن الترمذی/الدیات 10 (1402)، سنن النسائی/المحاربة 5 (4021)، سنن ابن ماجہ/الحدود 1 (2534)، (تحفة الأشراف: 9567)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 1/382، 428، 444، 465)، دی/ الحدود 2 (2344) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ ، وَرَجُلٌ خَرَجَ مُحَارِبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ ، أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا ، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا ، یا اسے سولی دے دی جائے گی ، یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا ، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4353
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3544), أخرجه النسائي (1453 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المحاربة 9 (4053)، (تحفة الأشراف: 16326)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 6/181، 214) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4354
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ :قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ فَقَالَ : " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ ، قَالَ : لَنْ نَسْتَعْمِلَ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ مُعَاذٌ قَالَ : انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السُّوءِ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قَالَ : اجْلِسْ نَعَمْ ، قَالَ : لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ ، فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے ، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف ، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، پھر فرمایا : ” ابوموسیٰ ! “ یا فرمایا : ” عبداللہ بن قیس ! تم کیا کہتے ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا ، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے ، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم اپنے کام پر اس شخص کو ہرگز عامل نہیں بنائیں گے یا عامل نہیں بناتے جو عامل بننے کی خواہش کرے ، لیکن اے ابوموسیٰ ! “ یا آپ نے فرمایا : ” اے عبداللہ بن قیس ! اس کام کے لیے تم جاؤ “ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا ، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : اترو ، اور ایک گاؤ تکیہ ان کے لیے لگا دیا ، تو اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس بندھا ہوا ہے ، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیسا آدمی ہے ؟ ابوموسیٰ نے کہا : یہ ایک یہودی تھا جو اسلام لے آیا تھا ، لیکن اب پھر وہ اپنے باطل دین کی طرف پھر گیا ہے ، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق جب تک یہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا ، ابوموسیٰ نے کہا : اچھا بیٹھئیے ، معاذ نے پھر کہا : اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی رو سے جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا ، آپ نے تین بار ایسا کہا ، چنانچہ انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا ، وہ قتل کر دیا گیا ، ( پھر وہ بیٹھے ) پھر ان دونوں نے آپس میں قیام اللیل ( تہجد کی نماز ) کا ذکر کیا تو ان دونوں میں سے ایک نے غالباً وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے کہا : رہا میں ، تو میں سوتا بھی ہوں ، اور قیام بھی کرتا ہوں ، یا کہا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور بحالت نیند بھی اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو بحالت قیام رکھتا ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6923) صحيح مسلم (1824)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المرتدین 2 (6923)، صحیح مسلم/الامارة 3 (1733)، سنن النسائی/الطہارة 4 (4)، (تحفة الأشراف: 9083)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/409) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4355
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْحِمَّانِيُّ يَعْنِى عَبْدَ الْحَمِيدِ ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، وَبُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَيَّ مُعَاذٌ وَأَنَا بِالْيَمَنِ وَرَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا ، فَأَسْلَمَ فَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ ، قَالَ : لَا أَنْزِلُ عَنْ دَابَّتِي حَتَّى يُقْتَلَ ، فَقُتِلَ قَالَ : أَحَدُهُمَا وَكَانَ قَدِ اسْتُتِيبَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میرے پاس معاذ رضی اللہ عنہ آئے ، میں یمن میں تھا ، ایک یہودی نے اسلام قبول کر لیا ، پھر وہ اسلام سے مرتد ہو گیا ، تو جب معاذ رضی اللہ عنہ آئے کہنے تو لگے : میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا ، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, وانظر الحديث السابق (4354)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9073) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4356
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَأُتِيَ أَبُو مُوسَى بِرَجُلٍ قَدِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَدَعَاهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا ، فَجَاءَ مُعَاذٌ فَدَعَاهُ فَأَبَى ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ 63 لَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِتَابَةَ وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الِاسْتِتَابَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے ، وہ کہتے ہیں` ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لے کر آیا گیا جو اسلام سے مرتد گیا تھا ، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کر دیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں ” توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے “ اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے ، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے ” توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4356
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, وانظر الحديث السابق (4354)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : 4354، (تحفة الأشراف: 9096، 9113، 19195) (صحیح الإسناد) »
حدیث نمبر: 4357
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ : فَلَمْ يَنْزِلْ حَتَّى ضُرِبَ عُنُقُهُ وَمَا اسْتَتَابَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قاسم سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے کہ` جب تک اس کی گردن مار نہیں دی گئی وہ سواری سے نیچے نہیں اترے اور انہوں نے اس سے توبہ نہیں کرائی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اس سے پہلے والی روایت کے معارض ہے جس میں ذکر ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے اسے قبول نہیں کیا لیکن مسعودی کی یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند منقطع, القاسم بن عبد الرحمٰن بن عبد اللّٰه بن مسعود لم يذكر عمن سمعه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (4354)، (تحفة الأشراف: 9096) (ضعیف الإسناد) »
حدیث نمبر: 4358
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : "كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا ، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا ، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا ، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی ۔
وضاحت:
۱؎: یہ عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے، عثمان انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور اس کی معافی کے لئے بہت زیادہ شفارش کی تو ان کا قصور معاف ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (4074 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/المحاربة 12 (4074)، (تحفة الأشراف: 6252) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 4359
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ زَعَمَ السُّدِّيُّ : عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ اخْتَبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَجَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى ، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ، فَقَالُوا : مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فِي نَفْسِكَ أَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ، قَالَ : إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا ، پھر آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا ، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے ، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کر دیتا ، جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں “ تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا جو منشا تھا ہمیں معلوم نہ ہو سکا ، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارے کرے “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیوں کنکھیوں سے اشارہ کرنا یہ ایسے دنیاداروں کا طریقہ ہے جنہیں اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4359
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (4072 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2683)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (2683)، (تحفة الأشراف: 3938) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4360
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب غلام دارالحرب بھاگ جائے تو اس کا خون مباح ہو گیا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب دارالحرب کی طرف بھاگ جانے سے اس کا خون مباح ہو گیا تو اس کے ساتھ اگر وہ مرتد بھی ہو گیا تو بدرجہ اولیٰ اس کا خون مباح ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4360
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف وصح بلفظ فقد برئت منه الذمة م , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (40574061), أبو إسحاق عنعن, و حديث مسلم (70) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإیمان (68)، سنن النسائی/المحاربة 10 (4057)، (تحفة الأشراف: 3217)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/365) (ضعیف) »