کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4235
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَن أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ ، قَالَتْ : فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ ابْنَةَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ ، فَقَالَ : تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے کچھ زیور ہدیہ میں آئے اس میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی جس میں یمنی نگینہ جڑا ہوا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے بغیر اس کی طرف التفات کئے پکڑا ، یا اپنی بعض انگلیوں سے پکڑا ، پھر اپنی نواسی زینب کی بیٹی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا : ” بیٹی ! اسے تو پہن لے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (3644 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/اللباس40 (3644)، (تحفة الأشراف: 16178)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/101، 119) (حسن الإسناد) »
حدیث نمبر: 4236
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے ، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے ، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے ، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو ۔
وضاحت:
۱؎: طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4401)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/334، 378) (حسن) »
حدیث نمبر: 4237
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ ، عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ کی بہن سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عورتوں کی جماعت ! کیا زیور بنانے کے لیے تمہیں چاندی نہیں ملتی ، سنو ! تم میں جو عورت بھی سونے کا زیور پہنے گی تو اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5140،5141), امرأة ربعي مقبولة (تقريب التهذيب: 8795) أي :مجهولة الحال،اسم أخت حذيفة بن اليمان : فاطمة / رضي اللّٰه عنھما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 39 (5140)، (تحفة الأشراف: 18043، 18386)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/455، 357، 358، 369)، سنن الدارمی/الاستئذان 17 (2687) (ضعیف) » (ربعی کی اہلیہ مبہم ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن اگر صحابیہ ہیں تو کوئی حرج نہیں ورنہ تابعیہ ہونے کی صورت میں وہ بھی مبہم ہوئیں )
حدیث نمبر: 4238
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے سونے کا ہار پہنا تو قیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنایا جائے گا ، اور جس عورت نے اپنے کان میں سونے کی بالی پہنی تو قیامت کے دن اس کے کان میں اسی کے ہم مثل آگ کی بالی پہنائی جائے گی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (5142), محمود بن عمر و وثقه ابن حبان وحده وجھله الذھبي وغيره وضعفه ابن حزم وھو مجهول الحال كما في التحرير (6514), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 39 (5140)، (تحفة الأشراف: 15776)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/455، 457،460) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 4239
حَدَّثَنَ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيًانَ : " أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ رُكُوبِ النِّمَارِ وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَلْقَ مُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتوں کی کھال پر سواری کرنے اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے مگر جب «مقطّع» یعنی تھوڑا اور معمولی ہو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوقلابہ کی ملاقات معاویہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ رخصت عورتوں کے لئے ہے مردوں کے لئے سونا مطلقا حرام ہے چاہے کم ہو یا زیادہ،عورتوں کے لئے جنس سونا حرام نہیں، سونے کی اتنی مقدار جس میں زکاۃ واجب نہیں وہ اپنے استعمال میں لا سکتی ہیں، البتہ اس سے زائد مقدار ان کے لئے بھی درست نہیں کیونکہ بسا اوقات بخل کے سبب وہ زکاۃ سے گریز کرنے لگتی ہیں جو ان کے گناہ اور حرج میں پڑ جانے کا سبب بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (4395), وله شاھد عند النسائي (5162 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 40 (5152)، (تحفة الأشراف: 11461)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 93، 95، 98، 99) (صحیح) »