کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: انگوٹھی بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4214
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّوَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5872)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/اللباس 47 (5868)،50 (5872)، 52 (5875)، 54 (5877)، (تحفة الأشراف: 1163، 1185، 1256، 1368)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، الاستئذان (2718)، سنن النسائی/الزینة سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، 41 (3645)، مسند احمد (3/161، 170، 181، 198، 209، 223) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ زَادَ فَكَانَ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى قُبِضَ وَفِي يَدِ عُثْمَانَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ بِئْرٍ إِذْ سَقَطَ فِي الْبِئْرِ ، فَأَمَرَ بِهَا فَنُزِحَتْ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی انس سے عیسیٰ بن یونس کی روایت کے ہم معنی حدیث مروی ہے ، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ` پھر یہ انگوٹھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی وہ ایک کنویں کے پاس تھے کہ اسی دوران انگوٹھی کنویں میں گر گئی ، انہوں نے حکم دیا تو اس کا سارا پانی نکالا گیا لیکن وہ اسے پا نہیں سکے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4214)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1185) (صحیح الإسناد) »
حدیث نمبر: 4216
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، قَالَ : " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی ، اس کا نگینہ حبشی تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5868) صحيح مسلم (2094)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ اللباس 47 (5868)، صحیح مسلم/ اللباس 12 (2012)، سنن الترمذی/ اللباس 14 (1739)، سنن النسائی/ الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3641)، 41 (3646)، (تحفة الأشراف: 1554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/209، 225) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4217
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ كُلُّهُ فَصُّهُ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی ، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه البخاري (5870) من حديث حميد عن أنس به وصرح بالسماع
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 15 (1740)، الشمائل 11 (84)، سنن النسائی/الزینة 45 (5203)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، (تحفة الأشراف: 662)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4218
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ ، وَقَالَ : لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ ، عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی ، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا ، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں ، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا ، اور فرمایا : ” اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا ، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی ( جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5866) صحيح مسلم (2091)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/اللباس 45 (5866)، الأیمان والنذور 6 (6651)، الاعتصام 4 (7298)، (تحفة الأشراف: 7832)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/الشمائل 11 (84)، اللباس 16 (1741)، سنن النسائی/الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس روایت میں مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «محمد رسول الله» کندہ کرایا ، اور فرمایا : ” کوئی میری اس انگوٹھی کے طرز پر کندہ نہ کرائے “ پھر راوی نے آگے پوری حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2091)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ اللباس 12 (2091)، سنن الترمذی/ الشمائل (101)، سنن النسائی/ الزینة من المجتبی 26 (5290)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3639)، 41 (3645)، (تحفة الأشراف: 7599) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْخَبَرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَاتَّخَذَ عُثْمَانُ خَاتَمًا وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ أَوْ يَتَخَتَّمُ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً یہی حدیث مروی ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ` لوگوں نے اسے ڈھونڈا لیکن وہ ملی نہیں ، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری انگوٹھی بنوائی ، اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا ۔ راوی کہتے ہیں : وہ اسی سے مہر لگایا کرتے تھے ، یا کہا : اسے پہنا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخاتم / حدیث: 4220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد منكر المتن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (5220 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 51 (5220)، (تحفة الأشراف: 8450)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 46 (5866)، صحیح مسلم/اللباس 12 (5476)، حم(2/22) (ضعیف الإسناد ومنکر المتن) »