کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سر منڈانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4192
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ ، فَقَالَ : ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ۱؎ “ پھر فرمایا : ” میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ “ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا ، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حجام کو بلاؤ “ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ چیخ و پکار اور سینہ کوبی کے بغیر میت پر تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4463), أخرجه النسائي (5229 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة من المجتبی 3 (5229)، (تحفة الأشراف: 5216)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/204) (صحیح) »