کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کندھے سے نیچے بالوں کو بڑھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ هُوَ أَخُو قَبِيصَةَ ، وَحُمَيْدُ بْنُ خُوَارٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ طَوِيلٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ذُبَابٌ ذُبَابٌ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ فَجَزَزْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” نحوست ہے ، نحوست “ تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا ، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ، یہ اچھا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الترجل / حدیث: 4190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (3636 وسنده صحيح) والنسائي (5055 وسنده صحيح، سفيان الثوري صرح بالسماع عنده)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزینة 6 (5055)، سنن ابن ماجہ/اللباس 37 (3636)، (تحفة الأشراف: 11782) (صحیح) »