کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 4020
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ إِمَّا قَمِيصًا أَوْ عِمَامَةً ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ " ، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ : فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ أَحَدُهُمْ ثَوْبًا جَدِيدًا ، قِيلَ لَهُ : تُبْلَى وَيُخْلِفُ اللَّهُ تَعَالَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ ( کہہ کر ) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے : «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ” اے اللہ ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے ، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔ ابونضرہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا : تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4020
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4342), أخرجه الترمذي (1767 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/اللباس 29 (1767)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (310)، (تحفة الأشراف: 4326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 50) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4021
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی جریری` سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4021
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4020)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4022
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا سَعِيدٍ ، وَحَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالثَّقَفِيُّ سَمَاعُهُمَا وَاحِدٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4022
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4020)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4020)، (تحفة الأشراف: 4326) (صحیح) »
حدیث نمبر: 4023
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ ، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا ” تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ نیز فرمایا : ” اور جس نے ( نیا کپڑا ) پہنا پھر یہ دعا پڑھی : «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا ” تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللباس / حدیث: 4023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون زيادة وما تأخر , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4343), أخرجه الترمذي (3458 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3285 وسنده حسن) أبو مرحوم عبد الرحيم وثقه الجمھور وحسنه الحافظ في الفتوحات الربانية
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 56 (3458)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3285)، (تحفة الأشراف: 11297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439)، سنن الدارمی/الاستئذان 55 (2732) (حسن) دون زیادة: ’’وما تأخر‘‘ في الموضعین »