حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ : " دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، فَقَالَ : عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی ، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو ؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب ( نمونیہ ) بھی ہے ، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے ، اور ذات الجنب میں «لدود» ۱؎ بنا کر پلایا جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «عود» سے مراد «قسط» ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «لدود» اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔