حدیث نمبر: 3875
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي ، فَقَالَ : إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے ، آپ نے میری دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں ، وہ دوا علاج کرتے ہیں ، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں “ ۔
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَصَبَّحَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سَمٌّ وَلَا سِحْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو سات عجوہ کھجوریں نہار منہ کھائے گا تو اس دن اسے نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا ، نہ جادو “ ۔